ایمان کی کمی اور زیادتی

درس بخاری شریف 29

آج ہم بخاری شریف کے باب نمبر 33 کے ذیل میں حدیث نمبر 44 اور 45 دیکھیں گے۔

باب نمبر 33 : باب زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ ( ایمان کی کمی اور زیادتی)

آغاز میں امام بخاری رحمتہ اللہ درج ذیل آیات پیش کرتے ہیں۔

· سورۃ کہف: {وَزِدْنَاهُمْ هُدًى} "جب انہوں نے استقامت اختیار کی تو اللہ نے انکی ہدایت کو اور بڑھا دیا۔"

· سورۃ مدثر : {وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا} "ایمان لانے والوں کا ایمان اس چیز نے اور بڑھا دیا۔"

· سورۃ مائدہ: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} " آج ہم نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا۔"

پھر اس کے بعد کہتے ہیں کہ فَإِذَا تَرَكَ شَيْئًا مِنَ الْكَمَالِ فَهُوَ نَاقِصٌ. "جب کسی چیز کے کمال میں کچھ کمی باقی رہ جائے تو وہ ناقص ہو جاتی ہے۔" یعنی دین مکمل ہے اور اس میں کوئی کمی نہیں ہے ۔ان آیات کے بعد احادیث نقل کی گئی ہیں :

حدیث 44:

عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ إِيمَانٍ ‏"‏‏.‏ مَكَانَ ‏"‏ مِنْ خَيْرٍ ‏"‏‏.‏

حضرت انس ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ‘‘لا إله إلا الله‘‘ کہہ لیا اور اس کے دل میں جو برابر بھی ( ایمان ) ہے تو وہ ( ایک نہ ایک دن ) دوزخ سے ضرور نکلے گا اور دوزخ سے وہ شخص ( بھی ) ضرور نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں گندم کے دانہ برابر خیر ہے اور دوزخ سے وہ ( بھی ) نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں اک ذرہ برابر بھی خیر ہے ۔ حضرت امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ حضرت انس رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ’خير‘ کی جگہ ’ايمان‘ کا لفظ نقل کیا ہے ۔

یعنی یہ حدیث دو طریقوں سے بیان کی گئی ہے کہ ایک میں خیر کا لفظ آیا ہے اور دوسری میں ایمان کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جس شخص کے دل میں جُو یا گندم یا ذرہ برابر ایمان ہے تو اس کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔ اور اس سے پہلے بھی ایمان میں زیادتی یا کمی کے بارے جو آیات و احادیث بیان کی گئی ہیں، ان سے ایمان کا بڑھنا یا گھٹنا ثابت ہوتا ہے اور اس کا تجربہ ہمیں ہوتا بھی رہتا ہے کہ ایمان ہمیشہ یکساں نہیں رہتا ہے۔ایمان موقع کے لحاظ سے بڑھتا یا گھٹتا رہتا ہے۔

قرآن پاک میں بہت سی جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے مومنین کے ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں ذکر کیا ہے۔

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا

"مومنین وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔" (الانفال :2 )

یعنی قرآن پاک کی تلاوت ،قرآن پاک کو پڑھنا اور سمجھنا ،اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سے اگر انسان پر کوئی آزمائش آتی ہے اور وہ ثابت قدم رہتا ہے تو اس پر بھی ایمان بڑھتا ہے۔

وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَـٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا ۝

’’اور سچے مومنوں (کا حال اُس وقت یہ تھا کہ) جب انہوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ "یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اُس کے رسولؐ کی بات بالکل سچّی تھی" اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا‘‘ (الاحزاب: 22 )

یہ غزوہ خندق کا ذکر ہے جب کفار عرب کے لشکر ان کے اُوپر چڑھ آئے تھے ۔ یعنی جب ا ن پر سخت آزمائش کا وقت تھا تو انہوں نے قلب سے اس بات تصدیق کی کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جووعدہ کیا تھا کہ تم پر سخت آزمائشیں آئیں گی لیکن تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان میں استقامت دکھا ؤ گئے تو یہ وعدے سچے تھے اور ان چیزوں نے ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا۔

اس بات کو ہم سب سمجھتے ہیں کہ جب ہم قرآن پاک سُنتے ہیں ،پڑھتے ہیں، اللہ کا ذکر کرتے ہیں،دروس کی محفلوں میں جاتے ہیں،صُحبت صالحہ میں بیٹھتے ہیں یا اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کرتے ہیں تو اس سے ہمارا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ اور جس کا جتنا زیادہ ایمان ہوتا ہے اس کا اتنا ہی زیادہ صالح عمل ہوتا ہے۔

انبیاء تو بالکل کامل ایمان والے اور خطا سے پاک تھے ہی لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی بہت زیادہ مضبوط ایمان والے تھے۔ان کے اعمال کا تو ہم تصور ہی کر سکتے ہیں۔ بہرحال بہترین اعمال کی توفیق پانے کے لیے بہترین ایمان رکھنا، اس میں اضافے کی کوشش کرتے رہنا بہت ضروری ہے کیونکہ جتنی کمزوری ایمان میں ہوگی اسی قدر اعمال صالحہ سے دوری ہو گی۔

آج ہم اگر دیکھتے ہیں کہ ہمارے اردگرد نفاق ہے ،بد دیانتی ہے ،جھوٹ ہے ، کرپشن ہے،بے حیائی ہے اور بہت سی بد اعمالیاں ہیں، اصل میں اُنکی پشت پر ایمان کی کمی ہے۔

یہاں پر یہ موضوع دو طرح سے زیر بحث ہے :

· ایک یہ کہ ایمان زیادہ بھی ہو سکتا ہے،ایمان کم بھی ہو سکتا ہے۔

· دوسری بات یہ کہ جس کے دل میں ذرّہ برابر یا جُو کے برابر یا گندم کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا یا جو کلمہ گو ہو گا وہ آخر کار دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔ پھراس میں بھی آگے دو پہلو آتے ہیں ۔

o ایک بات یہ کہ کچھ بد اعمالیاں ایسی ہو نگی کہ جو کلمہ گو لوگو ں سے اگر سرزد ہوئی ہوں گی تو اُنکو بھی اُنکی سزا بھگتنی پڑے گی اور کئی ہزار سال تک اُن گناہوں کی پاداش میں دوزخ میں جلنا ہوگا۔

o دوسرا پہلو یہ خوشخبری کہ بالآخر وہ دوزخ سے نکال لیے جائیں گے ۔

لیکن اس بات پر ہمیں غور کر لینا چاہیئے کہ دنیا میں اگر کوئی جلتا ہے تو چند منٹ میں اُس کا کام تمام ہو جاتا ہے مثلاً آج کل آئے دن ہم خبریں سُنتے ہیں کہ گیس لیک ہونے سے یا سلنڈر پھٹنے سے پورا گھر جل گیا ،لوگ مر گئے،لیکن وہاں پر ختم نہیں ہونا ہوگا، وہاں موت نہیں آئے گی،وہاں جو جلے گا خدانخواستہ ہزاروں سال کا جلنا ہوگا یا کتنی دیر کا جلنا ہو معلوم نہیں۔ یہاں اگر چند لمحوں کا جلنا برداشت نہیں ہوتا ، یا پھر روٹی بناتے وقت اُس کی بھاپ بھی کتنی شدید لگتی ہے،توے پر ہاتھ لگ جائے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے، پھر وہاں ہزاروں سال کا جلنا کیسے برداشت ہوگا؟ اور اس آگ کی شدّت کا بھی ہم تصور نہیں کر سکتے۔

ایسی احادیث سے ہمیں بہت زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیئے کہ بس جی آخر کار تو نکل ہی آئیں گے۔گناہوں میں شیر نہیں ہونا چاہیئے۔ آج ہم صالح اعمال کرنے کی کو شش کر یں اور اپنے ایمان کو بڑھانے کے لیے قرآن پاک اور احادیث میں جتنے بھی ذرائع بتائے گئے ہیں اُن پر عمل کریں مثلاً قرآن پاک کی تلاوت، اُس پر غور و تدبر، اللہ کا ذکر کرنا ،اللہ کے ذکر کی محفلوں میں جانا،ایسے لوگوں کے پاس بیٹھیں جن کے پاس بیٹھنے سے ایمان تازہ ہو جاتا ہے،مشکلات و مصائب میں اللہ طرف رجوع کریں،یہ سب چیزیں ایمان کو بڑھاتی ہیں۔ اور اُن تمام چیزوں سے دور رہیں جو ایمان کو کم کرنے والی ہیں۔نافرمانی، گناہ و فسق کی محفلیں، جن لوگوں کے دل اللہ کی یاد سے غافل ہیں اُن کے پاس بیٹھنے سے بھی منع کیا گیا ہے کیونکہ ایسے لوگوں کا اُٹھنا ، بیٹھنا، اُن کی دوڑ دھوپ سب گناہ کی طرف ہوتی ہے، ان ساری چیزوں سے ہم اس لیے بچیں تاکہ ہمارا ایمان کم نہ ہو یا اللہ نہ کرے کہ ایمان میں کمی کی وجہ سے ہم بد اعمالی کا شکار ہو جائیں اور آخر کار دوزخ میں جلنا پڑے۔

حدیث 45:

دوسری حدیث مبارکہ جو اسی باب میں آئی ہے اور شروع کی آیات اسی سے متعلق ہیں:

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الْيَهُودِ قَالَ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا‏.‏ قَالَ أَىُّ آيَةٍ قَالَ ‏{‏الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا‏}‏‏.‏ قَالَ عُمَرُ قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ‏.‏

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! تمہاری کتاب ( قرآن ) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو ۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس ( کے نزول کے ) دن کو یوم عید بنا لیتے ۔ آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے جواب دیا ( سورۃ المائدہ کی یہ آیت کہ ) ’’ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا ‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو ( خوب ) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ( اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے ۔

حضرت عمر ؓ سے یہ بات ایک یہودی نے کہی جس پر آپ  نے کہا کہ ہم اس دن کو عید کی طرح سمجھتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ ایک تو جمعہ کا دن برکت اور خوشی والا پھر عرفہ کا دن جس کے بعد عید الضحیٰ ہوتی ہے۔ ہم اس دن بھی خوشی مناتے ہیں۔ اس آیت کی اہمیت کو یہود نے سمجھا اور ذکر کیا کہ یہ بہت بڑا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر مکمل دین نازل کر دیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس آیت میں خود اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کر دی یعنی پورے کا پورا دین دے دیا ،ہر پہلو سے مکمل نظام دے دیا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑے سے بڑے مسائل کا حل اور جامع احکام ہیں ، سب اس قرآن کے اندر اور احادیث کے ذریعے ہمیں سیکھا دئیے گئے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا انعام ہے اگر ہم سوچیں تو حقیقتاً اسی بات پر جشن عید منانا چاہیئے۔نبی کریمﷺ اور صحابہ  نے بھی اس کو سمجھا اور اُس سے اگلا دن عید کا دن قرار دے دیا گیا۔

اس میں بھی بہت سے پہلو نکلتے ہیں ایک بات تو یہ کہ دین کامل ہے ،مکمل ہے اور اس کے اندر کسی اضافے کی ضرورت اور گنجائش نہیں ہے یعنی ہم کہیں کہ دو عیدیں ہیں تو اسکی جگہ ہم تین منا لیں یا پانچ فرض نمازیں ہیں تو ہم چھ بنا لیں۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے جو دین اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔وہی مکمل دین ہے ۔ اُس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکتی ۔ اگراللہ کی رضا کے لیے بھی کوئی اضافہ کریں گے وہ بدعت قرار دی جائے گی اور اسکو نا پسندیدہ شمار کیا جائے گا اور بدعت کو گمراہی اور ضلالت کہا گیا ہے۔ یہاں البتہ ایک بات ذہن میں رہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اگر کوئی ایسا مسئلہ در پیش آتا ہے جو اس وقت نہیں تھا تو اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے۔ جیسے اس وقت جہاز نہیں تھے تو اب جہاز میں نماز کیسے پڑھنی ہے۔ تو علماء کرام ہمیں اجتہاد کر کے بتائیں گے یا اسی طرح سے طبّی معاملات میں یا کچھ اور دُنیوی مسائل میں مثلاً کسی دوسرے کو خون دینے کا مسئلہ آتا ہے تو کیا ہم دے سکتے ہیں؟ اعضاء کی تبدیلی کرنا پڑتی ہے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ تو علماء اس بارے میں اجتہاد کر کے بتائیں گے کہ کیا ٹھیک ہے کیا غلط ہے۔ لیکن یہ اجتہاد بھی دین کے بنیادی دائروں کے اندر ہوگا ،قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق ہوگا، اُن سے باہر نہیں ہوگا۔ جیسے ٹیسٹ ٹیوب بے بی ہے۔اس میں کچھ چیزیں ناجائز ہیں۔ صرف ایک صورت جائز ہے۔ ایسی تمام باتیں ہمیں علماء ہی بتاتے ہیں۔اسی طرح عبادات میں، نماز کے اوقات کے بارے میں رھنمائی مثلاً اُن ممالک میں جہاں سورج سردیوں میں برائے نام نظر آتا ہے اور گرمیوں میں 22۔23 گھنٹے سورج چمکتا رہتا ہے تو اُنکی نمازوں کے اوقات کیا ہونگے ،وہ کیسے پڑھیں گے؟ تو یہ ساری چیزیں اجتہاد کر کے بتائی جائیں گئیں۔ لیکن کسی بھی چیز میں خود سے اضافہ نہیں کر سکتے اور خود سے اس میں کوئی کمی نہیں کر سکتے ۔

دوسری بات جو ہمارے لیے خوشخبری ہے کہ دین کے کامل ہونے پہ ہم حقیقی معنوں میں خوش ہوں اور سمجھیں کہ جو کچھ دین اسلام کے اندر ہے وہ دین یہود کے اندر نہیں تھا ۔ عیسائیوں کو بھی مکمل دین نہیں دیا گیا۔ کوئی بھی آسمانی دین اتنا مکمل نہیں تھا کہ ان کے نبی نے بتایا ہو کہ تم نے غسل کیسے کرنا ہے؟ باتھ روم کیسے جانا ہے؟ اور یہاں تک بھی بتا دیا کہ ایک حکمران حکومت کیسے کرے گا اور قیدیوں کے معاملات کیا ہونگے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات سے لیکر بڑی سے بڑی بات تک ، سب تفصیل سے اللہ تعالیٰ نے نازل کر دی ہیں۔ اب بھی اگر ہم اس دین کو نہیں اپناتے ،اس پر عمل نہیں کرتے یا اس پر جُزوی عمل کرتے ہیں،کچھ کو مان لیتے ہیں ،کچھ کو نہیں مانتے تو یہ ہماری بد نصیبی ہے اور اس بد نصیبی کو امت مسلمہ اس وقت بھگت رہی ہے کہ اُس نے اپنے مکمل دین کو نہیں لیا ،دین میں سے عبادت لے لی۔نماز ،روز، حج ، زکوٰۃ تو لے لیا لیکن جو اسکے بڑے بڑے احکام تھے، وہ نہ لیے۔ سود نہ چھوڑا ،بے حیائی نہ چھوڑی اور بہت سے دوسرے کام جو درست نہیں تھے اُن کو اختیار کررکھا ہے۔ ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ، سورہ البقرہ میں بہت سخت وعید ہے:

أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ۝

کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو (البقرہ :85 )

ہمیں تو حکم دیا گیا ہے کہ :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً

اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آ جاؤ (البقرہ :208 )

دین کامل ہے،ایک مکمل پیکج ہےجو اللہ تعالیٰ نےہمیں دیا ہے۔اگر ہم اُس پورے کے پورے پیکج کو نافذ کریں گے تو تب ہمیں اس دین کی برکات حاصل ہوں گئی اور

اس دین کے جتنے فوائد ہیں وہ حاصل ہوں گے۔پھر یہ زندگی حیات طیبہ بن جائے گی ۔ اس وقت ہم ان سب سے اسی لیے محروم ہیں کیونکہ ہم نے دین کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔۔دین کو مکمل طور پر لیں گے تو پھر مدینہ شریف کی طرح لوگ زکوٰۃ لے لر پھریں تو کوئی لینے والا نہ ہو۔ اسی سے خوشحالی بھی آئے گی،برکتیں بھی ہوں گی،اس سے ہماری گھریلو زندگیاں بھی اچھی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ عمل کرنے کے بعد ہم حق رکھتے ہیں کہ ہم خوشیاں اور جشن منائیں لیکن شرط یہ ہے کہ ہم پہلے عمل کریں اور پھر ہماری خوشیاں اور جشن بھی اللہ کے حکم کے مطابق ہوں۔ ان شا ء الله دین اسلام پر مکمل طور پر عمل کر کے ہم اس زندگی میں بھی برکات کی صورت میں خوشی پائیں گے اور اخروی زندگی میں بھی جنت کی صورت میں حقیقی خوشی کے حق دار بنیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

15 views

Contact Us

email: icnasisterscanada@gmail.com

Address:

6635 Kitimat Rd, Unit 33 

Mississauga, Ontario

L5N 6J2

Phone #: 905-816-0105

Hours:

Tuesday, Wednesday, Thursday

10:00 am - 1:00 pm

About Us

ICNA Sisters Canada was established in 1978 by six visionary sisters to seek the pleasure of Allah (swt) by enabling Muslim women to strive and build a community that sets path towards personal excellence in their faith, worship, morality and to share the Islamic vision for the moral and social development of the Canadian society through knowledge, training, and community services.

Subscribe to Our Site

© 2019 - ICNA SISTERS CANADA