• writersforumicna

تعمیر سیرت ۔۔ سنت رسول کے آئینے میں


By: فارحہ شبنم

 حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت انتہائ ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہے ۔ اس میں ہماری زندگی کے ہر ہرپہلو کے حوالے سے سنہری اصول آسمان پر موجود چمکتے ستاروں کی طرح رہنمائی کرنے کو موجود ہیں ۔ تعمیر سیرت یا کیریکٹر بلڈنگ ایک ایسا موضوع ہے جس پر آج کل بڑی بڑی کمپنیاں اور تنظیمیں اپنی ورکشاپس اور کورسز کرواتی ہیں مگر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی طرف نظر اٹھاتے ہیں تو وہاں ہمیں تعمیر سیرت کے لیے فطرت انسانی سے قریب تر رہتے ہوئے وہ ہمہ پہلو اور ابدی ہدایات ملتی ہیں جو ہر دور کے انسان کے لیے متاع بے بہا ہیں۔    وہ خواہ ہماری انفرادی زندگی سے متعلق ہو ں یا اجتماعی، بندوں سے معاملات ہوں یا بندوں کے رب سے سے، ہمارے جذبات سے متعلق ہوں یا نفسیات اور عقل سے.... جس لحاظ سے بھی دیکھیں ہمیں ایک ایسا مثالی کردار نبی کریم کی سیرت طیبہ میں نظر آتا ہے جو ہمارے لئے ہمارے رب کی طرف سےایک عظیم تحفہ ہے۔

    لہذا اس مضمون کو طوالت سے بچانے کی کوشش کے طور پر میں جس رخ پر توجہ مرکوز کروانا چاہتی ہوں وہ ہے انسانی جذبات و احساسات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان سے کس طرح معاملہ کیا جائے ۔اسے آج کل کی زبان میں ایموشنل انٹیلی جنس بھی کہا جاسکتا ہے ۔ یعنی معاملے کو اس انداز میں سنبھالنا کہ جانبین نہ صرف مطمئن بلکہ خوش ہو جائیں ۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھلنڈرے، خواتین کے معاملے میں حساس، جاہلوں کے معاملے میں درگزر کرنے والے، کمزوروں کے مددگار، دشمنوں کے مقابلے میں نڈر اور گنہگاروں کے معاملے میں عفووکرم کا پیکر تھے ۔    حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ ایک طویل عرصے نبی کریم کی خدمت کےمرتبہ پر فائز رہے ۔ کم عمری میں ہی ان کی والدہ نے انہیں اس مقصد کے لیے وقف کر دیا تھا ۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کےبارے میں گواہی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے نہ کبھی ان کے اوپر غصہ کیا نہ مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا۔

      ہم ماؤں کے لیے خصوصا اس میں سیکھنے کے لیے بہت اہم اصول ہے کہ کیا ہم حالات کے آگے نڈھال ہو کر اپنے جذبات اور غصے کا کنٹرول کھو بیٹھتے ہیں یا بچوں کی فطرت اور عادات کو سمجھتے ہوئے اس طرح معاملہ کرتے ہیں کہ انکی سیلف ریسپیکٹ اور سیلف امیج اور ہمارا سیلف کنٹرول دونوں اس سچوئیشن سے مضبوط ہو ں۔      ازواج مطہرات کو حبشیوں کے کرتب دکھانا، دوڑ کا مقابلہ کرنا، ازواج مطہرات میں باہمی فطری حسد کو محسوس کرتے ہوئے ان کو مطمئین کرنا ، اونٹ پر سوار ہونے اور اترنے میں مدد کے لیے جھک کر اپنا گھٹنا پیش کرنا، صلح حدیبیہ کے موقع پران سے مشورہ لینا اور اس پر عمل کرنا، ان کے درمیان ایک دوسرے کے چہرے پر ثرید ملنے سے لطف اٹھانا... یہ سب واقعات بتاتے ہیں کہ واقعی عورت ذات نبی کریم کے دل کے انتہائ قریب تھی اور آپ ان کی سمجھداری، نزاکت اور لطافت کو سمجھتے ہوئے ان سے معاملات کرتے تھے ۔      اسی طرح مسجد نبوی میں ایک بدوی کے پیشاب کرنے پر بے چین صحابہ کرام کو صبر کی تلقین اور فراغت کے بعد اس اعرابی کو پیار سے سمجھانا... یہ سب نبی کریم کے طریقہ تربیت کے بہترین نمونہ ہیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنے والے نہ تھے بلکہ ہر ایک سے اس کی سمجھ اور حالات کے مطابق ڈیل کرتے تھے۔ اور نتیجتاً لوگ آپ کے گرویدہ ہو جاتے تھے ۔       تمام اختیارات کے باوجود خانہ کعبہ کو اس کی اصل بنیادوں پر قائم کرنے سے احتراز کرنا، اس اعرابی کو معاف کرنا جس نے آپ کو سوتا دیکھ کر آپ ہی کی تلوار آپ پرسونت لی۔ اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ پھر جب آپ نےاس کو معاف کر دیا تو وہ مسلمان ہوکر پورے قبیلے کے مسلمان ہونے کا سبب بن گیا ۔یہ اس طریقہ تربیت کے بہترین نتائج کا ثبوت ہیں۔      نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ معاشرے کے کمزور اور پسے ہوئے طبقہ کے دکھ کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ ان کی بھرپور دادرسی کی.... خواہ وہ غلام ہوں یا عورتیں، زندہ درگور کی ہوئی بچیاں ہوں یا غرباء ومساکین... ۔خصوصا ضمیر کے وہ قیدی جو گناہ سرزد ہونے پر شرمسار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے در پر حاضر ہوتے اور آپ ان کو لعن طعن، سزا اور عذاب کی وعید کے بجائے معافی اور مغفرت کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں سے آشنا کرواتے۔ زناکے اقبال جرم پر ایک غامدیہ کو ٹالنا، سزا کے لیے حاضر ہونے والے شخص کو نماز پڑھنے پر گناہ معاف ہو جانے کی خوشخبری دینا.... یہ اور اس جیسے بے شمار واقعات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی وہ جھلکیاں ہیں جو ذاتی طور پر مجھے انتہائی محبوب ہیں۔ ان سے نہ صرف مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے بلکہ عملی زندگی میں یہ میری بہترین رہنمائی کرتی ہیں۔       بلغ العلی بکمالہ      کشف الدجا بجمالہ      حسنت جمیع خصالہٖ       صلو علیہ وآلہ      

IS

13 views

Contact Us

email: icnasisterscanada@gmail.com

Address:

6635 Kitimat Rd, Unit 33 

Mississauga, Ontario

L5N 6J2

Phone #: 905-816-0105

Hours:

Tuesday, Wednesday, Thursday

10:00 am - 1:00 pm

About Us

ICNA Sisters Canada was established in 1978 by six visionary sisters to seek the pleasure of Allah (swt) by enabling Muslim women to strive and build a community that sets path towards personal excellence in their faith, worship, morality and to share the Islamic vision for the moral and social development of the Canadian society through knowledge, training, and community services.

Subscribe to Our Site

© 2019 - ICNA SISTERS CANADA