• writersforumicna

تعمیر سیرت سنّت رسولﷺ کے آئینہ میں

By: Nasim Masroor

معاشرتی تمدنی تقاضے مختلف ہوتے ہیں جن کو پیش نظر رکھتے ہوۓ افراد قوم کی تربیت کی جاتی ہے  تعمیرکردار کا تصور اسلام

میں انسان کی فطری ،اخلاقی اور مجلسی ضرورتوں کا لحاظ رکھتے ہوۓ پیش کیاہےـ جس میں ان ابدی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھا جاتاہے جو کسی بھی معاشرے کے بنیادی ستون ہیں اور معاشرتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لۓ ضروری ہیں ـ نبئ کریمﷺ کی  زندگی لمحہ بہ لمحہ ان اقدار کا احاطہ کئے ہوۓ ہے۔

صدق وصفا :- نبوت کے بعد آپ ﷺدعوت حق دے رہے ہیں اپنی سچائی کا یقین روز روشن کی طرح ہےـ سیدھے راستے پر چلنے کی دعوت ہےلیکن دوسری جانب سے اس کا انکار ہے ، بار بار انکار ہےـ آپ کا دل گھٹتا ہے آپ کے پیغام سے انکار ہی نہیں تکذیب بھی ہے ، مذاق ہے استہزا ہے لیکن اس کے باوجود دل میں کوئی غصہ نہیں بلکہ ان کی تباہی و بربادی کا افسوس ہے آپ کے دل میں خیر خواہی اور محبت ہی محبت ہے ـایک ہی دھن ہے کہ یہ لوگ ایمان کی راہ پر آجائیں اللہ کے غضب اور جہنم کی  آگ سے بچ جائیں  سوز و درد اس بات کا ہے کہ لوگ پروانہ وار  آگ کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں " میں تمھیں کمر سے پکڑ  پکڑ کر آگ سے روک رہا ھوں اور تم ھو کہ آگ میں گر پڑ رھے ھو"        (بخاری و مسلم)

فہم و ادراک :- تعمیر سیرت کے لئے آپکیﷺ حیات مبارکہ سے ہر دور اور ہر عمر کا فرد رہنمائی حاصل کر سکتا ہے آپﷺ کے بچپن کا ابتدائی دور ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے

لئے سبق آموز ہے کہ انتہائی ناساز گار حالات کے باوجود ایک بچہ اپنے عزم استقلال کی بدولت اپنے اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ طریقہ زندگی کو قائم رکھ سکتا ہے ۔حا لات کا ادراک کرتے

ہوۓ آپ نےاپنے رضائی بھائیوں کے ہمراہ بکریاں چرانا شروع کردیں ـ پھر ذ را بڑے ہوئے تو اپنے چچا کے ساتھ تجارتی سفر شروع کردیۓ ـ آپ معاملا ت میں حد درجہ محتاط تھےـ نیک صفتی آپ کی پہچان تھی ـ آپ امین اور صادق کہلاتے تھے ـ آپ کی انہی اوصاف کی وجہ سے مکّہ کی تاجر خاتون نے اپنے مال کی تجارت کے لئے آپ کو منتخب کیا  جو بعد میں آپ کی شریک حیات بنیں ـ ہجرت کا موقعہ  آ تا ہے تو امانتوں کی فکر ہے اس کے لئے نگاہ انتخا ب حضرت علی پر پڑتی ہے جو آپ کے ہی پروردۂ تربیت ہیں ـ اما نتیں بھی کس کی انہیں قریش کے لوگوں کی جو

آپ کے جانی دشمن ہیں جن کی وجہ سے آپ کو ہجرت کرنی پڑ رہی ہےـ آپ حضرت علی کے سپرد کرتے ہیں کہ صبح اٹھ کر ان کی امانتیں واپس کر دیں  -

صبروبردباری:- بنی مخزوم کا سردار آتا ہے نبئ کریم صحابہ کرام  کے ساتھ تشریف فرما ہیں  صاحباں علم و عرفاں دیکھ کر بپھر جاتا ہے کہ آج ان سب کےسامنے ھادئی برحق کو خاکم بدھن نیچا دکھاتا ہوں اسلئے کشور رسالتﷺ سے مخا طب ہوا " کہ بنو ہاشم میں خاکم بدھن ایک ہی  صورت بری  اور مکروہ ہے ۔ اشارہ نبئ کریمﷺ کی طرف تھا ۔ آپ توکسی

کوسخت جواب دینا یا کسی سے تکرار کرنا پسند نہیں فرماتے تھے کچھ اسطرح جواب دیا "ٹھیک ہے"۔اتنے میں ابو قحافہ کے بیٹے  تشریف لاۓ اور ایک نظر جمال محمدی پر ڈالی عرض کیا کہ"یا رسول اللہ! رب کعبہ  نے آپ کو بڑا حسن ، بڑی کشش عطا فر مائی ہے"

آپ نے جواب دیا "جو کچھ تم نے میرے بارے میں کہا وہ بھی سچ ہے"۔ نہ ھجو پر غم و غصہ نہ مدح پر کوئی شادمانی اپنے کام اور لگن میں مجسم محو ہیں۔صبر آزما دور دیکھنا ہے تو شعیب ابی طالب کی گھاٹی میں محصوری کا تصور کیجئے کہ خود نبئ کریمﷺ اور تمام رفقاۓ کار ، اپنی بیٹیاں اور شریک سفر سب استقامت کی چٹان بنے رھے۔

پیکر حسن و اخلاق:۔ آپ جس راستے سے گزرتے ہیں ایک عورت  وھاں  روزانہ کچرا ڈالتی ہے کہ آپ کو تکلیف ہو ۔ ایک دن آپ وھاں سے گزر رہے ہیں وہ عورت نظر نہیں آئی تو شکر ادا نہیں کیا  کہ آج وہ نہیں ہے بلکہ فکر دامن گیر ہوئی کہ نہ جانے کس حال میں ہو اس کا احوال پوچھنے اس کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ ایک اور واقعہ ایک بزرگ عورت اپنا سامان ڈھوتی ہوئی جا رہی ہے سامان اس سے اٹھایا نہیں جا رھا ہے ۔ نبئ کریم کا گزر ہوتا ہے تو اس سے اس کا سامان لے کر ساتھ چلنے لگتے ہیں وہ مکہ شہر سے باہر جارہی تھی ۔ آپ اس سے باتیں کرتے ہوۓ جا رھے ہیں ۔آپ نے پوچھا کہ مکہ سے باہر کیوں جارہی ہو ۔ اس نے کہا کہ محمد نام کا ایک شخص ہے جو ھمارے باپ دادا کے دین کو برا کہتا ہے اور نئی نئی باتیں کرتا ہے " کہ ایک اللہ کی بندگی کرو اور بتوں کو  پوجنے سے منع کرتا ہے" ۔ اس لئے میں یہ شہر چھوڑ کر جا رہی ہوں ۔آپ اس کی باتیں تحمل سے سنتے رھے اور اس کو اس کی منزل تک  پہنچاتے ہیں ۔ وہ آپ کو بہت دعائیں

دینے لگی پھر اس نے آپ سے پوچھا کہ اے نیک بندے اپنا نام تو بتا دو تو آپ نے کہا

"میں ہی وہ محمد ہوں"۔

عفو د رگزر اور مثبت سوچ :۔ نبئ کریمﷺ مکے کے لوگوں کی بے اعتنائی کو دیکھ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں جا تے بلکہ سوچ بچار کر تے ہیں کہ اب کس کو دعوت دی جاۓ۔چنانچہ ایک نۓ عزم اور امید کے ساتھ طائف کا سفر کرتے ہیں ۔آپ کے ساتھ زید بن حارثہ ہیں ۔ پیدل سفر ہے راستے کی بستیوں میں دعوت دین کاکام کرتے ہیں۔ طائف ایک کھاتے پیتے متّمول لوگوں کا شہر ہے لیکن یہ جذبوں کے متّمول نہیں یہاں تو معاملہ ہی برعکس ہے۔ سننا اور مدد کرنا تو د رکنار انہوں نے تو اپنے ہاں ٹہرانا بھی گوارہ نہ کیا۔ستم بالاۓ ستم طائف میں آپ کو لہو لہان کیا جاتا ہے آپ کی دعا کے بعد جبر یل امیں پہاڑوں کے فرشتے کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نےیہ فرشتہ بھیجا ہے اگر آپ چاہیں تو" میں انہیں دو پہا ڑوں کے درمیان پیس دوں" آپ  رحمۃاللعالمین ہیں  آپ فرماتے ہیں "  امید ہے کہ اللہ عزو جل ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو صر ف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور کسی کو شریک نہیں ٹہراۓ گی۔

قوت فیصلہ اور انتخاب:۔ سنہ 9 ھجری کے دن ہیں بنو ثقیف کا ایک وفد  مدینہ منوّرہ

آتا ہے اور نبئ کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لاتا ہے۔ اسمیں قبیلے کے بڑے

بڑے لوگ  ہیں۔ وفد واپس جاتے وقت  آپ سے درخواست کرتا ہے کہ ہم میں سے کسی کو امیر بنا دیا جاۓ۔ اس موقع پر عثمان بن ابی العاص کو طلب فرمایا سب لوگ حیران کہ اس نو عمر لڑکے کو کیوں طلب کیا۔ جب وہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوۓ تو آپ

نے فرما یا کہ یہ تمھارا امیر ہے لوگ حیرت زدہ تھے آپ نے فرمایا میں نے اس کو اس لۓ

اس منصب پر فائز کیا کہ یہ تم سب سے زیادہ قر آن کا علم رکھتا ہے۔

حکمت و دانائی:۔ جب مدینے میں اسلامی ریاست کی بنیاد  رکھی گئی تو اسلامی تعاون 

کا عہد و پیمان کرایا گیا ۔ جس میں قبائلی کشمکش اور دور جہالت کے رسم ورواج کےلئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔ حکمت اور دور اندیشی سےرسول اکرم نے ایک نئے معاشرے کی بنیادیں استوار کیں۔ نبئ کریم صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت، تزکیہ نفس اور مکارم اخلاق کی ترغیب میں مسلسل کوشاں رہے ۔یہود و نصارٰی سے معاھدےاور صلح حدیبیہ یہ سب فراست کے فیصلے تھے۔


عقل کیمنزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہ

حلقئہ  آفاق میںگرمئیمحفل  ہے   وہ ۔۔۔

Contact Us

email: icnasisterscanada@gmail.com

Address:

6635 Kitimat Rd, Unit 33 

Mississauga, Ontario

L5N 6J2

Phone #: 905-816-0105

Hours:

Tuesday, Wednesday, Thursday

10:00 am - 1:00 pm

About Us

ICNA Sisters Canada was established in 1978 by six visionary sisters to seek the pleasure of Allah (swt) by enabling Muslim women to strive and build a community that sets path towards personal excellence in their faith, worship, morality and to share the Islamic vision for the moral and social development of the Canadian society through knowledge, training, and community services.

Subscribe to Our Site

© 2019 - ICNA SISTERS CANADA